30

کراچی میں بڑی دہشت گردی کی سازش ناکام، خودکش جیکٹ سمیت تربیت یافتہ ٹی ٹی پی دہشت گرد گرفتار

سی ٹی ڈی اور حساس اداروں کی مشترکہ کارروائی، شہر کو بڑی تباہی سے بچا لیا گیا

کراچی میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) سندھ اور وفاقی حساس ادارے نے مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کے دوران بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ایک انتہائی خطرناک اور تربیت یافتہ خودکش دہشت گرد کو گرفتار کر لیا۔ حکام کے مطابق گرفتار دہشت گرد کراچی میں ایک بڑی خودکش کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہا تھا، تاہم بروقت کارروائی کے ذریعے ممکنہ تباہی کو روک لیا گیا۔

گرفتار دہشت گرد کی شناخت سلمان عرف ابو ہریرہ کے نام سے ہوئی

ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق گرفتار دہشت گرد کی شناخت سلمان عرف ابو ہریرہ کے نام سے ہوئی ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ ملزم افغانستان میں دہشت گردوں کے تربیتی مراکز سے خصوصی خودکش کمانڈو ٹریننگ حاصل کر چکا ہے اور اسے مختلف حساس اہداف پر حملوں کے لیے تیار کیا گیا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ ملزم نہ صرف تربیت یافتہ خودکش حملہ آور تھا بلکہ دہشت گرد تنظیم کے لیے اہم رابطہ کار کا کردار بھی ادا کر رہا تھا۔

خودکش جیکٹ اور حساس مقامات کے نقشے برآمد

سی ٹی ڈی کے مطابق کارروائی کے دوران گرفتار دہشت گرد کے قبضے سے ایک تیار خودکش جیکٹ، کراچی کے حساس مقامات کے نقشے، تصاویر اور دیگر اہم مواد برآمد کیا گیا۔

تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ دہشت گرد شہر کے اہم سرکاری، سیکیورٹی اور عوامی مقامات کی ریکی کر رہا تھا تاکہ مستقبل میں کسی بڑے حملے کو کامیاب بنایا جا سکے۔

سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ برآمد ہونے والا مواد اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گرد کسی منظم نیٹ ورک کے تحت کام کر رہا تھا۔

ساتھی دہشت گرد کے ہمراہ کراچی پہنچا تھا

ابتدائی تفتیش میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ سلمان عرف ابو ہریرہ اپنے ایک ساتھی ادریس عرف اسد اللہ کے ہمراہ کراچی پہنچا تھا۔ دونوں دہشت گردوں کا ابتدائی ہدف ٹارگٹ کلنگ کی کارروائیاں کرنا تھا، جس کے بعد بڑے پیمانے پر دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی۔

حکام کے مطابق دونوں دہشت گرد شہر میں مختلف مقامات پر نقل و حرکت کر رہے تھے اور اپنے نیٹ ورک کو فعال بنانے کی کوششوں میں مصروف تھے۔

غیر ملکی باشندوں پر حملے میں ملوث ہونے کا انکشاف

سی ٹی ڈی ترجمان کے مطابق گرفتار ملزم سلمان، ہلاک ہونے والے خطرناک دہشت گرد زعفران عرف ابو ہریرہ کا قریبی ساتھی ہے۔ تحقیقات کے دوران یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ کراچی کے علاقے میں واقع لبرٹی ٹیکسٹائل پر غیر ملکی باشندوں پر ہونے والے حملے میں براہ راست ملوث رہا ہے۔

سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ اس انکشاف کے بعد ملزم کے خلاف مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں تاکہ نیٹ ورک کے دیگر ارکان تک رسائی حاصل کی جا سکے۔

بڑی خودکش کارروائی کی منصوبہ بندی جاری تھی

تحقیقات کے مطابق گرفتار دہشت گرد کراچی میں “مولوی مخلص یار” نامی کمانڈر کی ہدایت پر کام کر رہا تھا۔ اطلاعات ہیں کہ وہ شہر میں ایک بڑی خودکش کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہا تھا جس کا مقصد خوف و ہراس پھیلانا اور سیکیورٹی صورتحال کو نقصان پہنچانا تھا۔

حکام کے مطابق بروقت انٹیلیجنس اطلاعات اور مشترکہ کارروائی کی وجہ سے یہ منصوبہ ناکام بنا دیا گیا۔

مزید خودکش حملہ آوروں کی آمد متوقع تھی

سی ٹی ڈی نے انکشاف کیا ہے کہ گرفتار دہشت گرد کے نیٹ ورک سے وابستہ مزید خودکش حملہ آوروں کی کراچی آمد متوقع تھی۔ اسی خدشے کے پیش نظر سیکیورٹی اداروں نے شہر بھر میں سرچ اور کومبنگ آپریشنز کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔

مشترکہ ٹیمیں مختلف علاقوں میں چھاپے مار رہی ہیں اور مشتبہ افراد کی نگرانی بھی بڑھا دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کو بروقت ختم کیا جا سکے۔

دہشت گردی کے مقدمات درج، مزید انکشافات کی توقع

گرفتار دہشت گرد کے خلاف تھانہ سی ٹی ڈی میں انسداد دہشت گردی اور بارودی مواد ایکٹ کے تحت مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے اور دورانِ تفتیش اہم انکشافات متوقع ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کیس سے متعلق مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آ سکتی ہیں کیونکہ تحقیقات کا دائرہ دہشت گرد تنظیم کے پورے نیٹ ورک تک پھیلایا جا رہا ہے۔

کراچی میں سیکیورٹی مزید سخت

حالیہ کارروائی کے بعد کراچی میں سیکیورٹی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔ حساس تنصیبات، سرکاری دفاتر، غیر ملکی اداروں اور عوامی مقامات پر نگرانی بڑھا دی گئی ہے جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے ہائی الرٹ ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں انٹیلیجنس اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان مؤثر تعاون انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے، اور حالیہ کارروائی اس کی ایک واضح مثال ہے۔

نتیجہ

سی ٹی ڈی سندھ اور وفاقی حساس اداروں کی مشترکہ کارروائی کے نتیجے میں کراچی میں ایک بڑی دہشت گردی کی سازش ناکام بنا دی گئی۔ خودکش جیکٹ سمیت گرفتار ہونے والا ٹی ٹی پی کا تربیت یافتہ دہشت گرد شہر میں بڑے حملے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ سیکیورٹی ادارے اس نیٹ ورک کے دیگر ارکان کی تلاش میں سرگرم ہیں جبکہ تحقیقات سے مزید اہم انکشافات کی توقع کی جا رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں