28

کوکین ڈیلر انمول عرف پنکی کیس: جج کا تفتیشی افسر پر اظہارِ برہمی، مرکزی ملزمہ کا نام مقدمے میں شامل نہ ہونے کا انکشاف

کراچی سٹی کورٹ میں اہم پیش رفت

کراچی کی سٹی کورٹ میں مبینہ کوکین ڈیلر انمول عرف پنکی کے خلاف درج مقدمات کی سماعت کے دوران اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ عدالتی کارروائی کے دوران جوڈیشل مجسٹریٹ نے تفتیشی افسر کی کارکردگی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کیس کی تفتیش میں پائی جانے والی خامیوں پر سخت سوالات اٹھائے۔

عدالت نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ ایک ماہ قبل گرفتار ہونے والی مرکزی ملزمہ کا نام اب تک مقدمے کی کاغذی کارروائی میں شامل نہیں کیا گیا، جس سے تفتیشی عمل پر کئی سوالات جنم لے رہے ہیں۔

سہولت کار ملزمان عدالت میں پیش

سماعت کے دوران انمول عرف پنکی کے مبینہ سہولت کاروں عاقب اور غلام عباس کو عدالت میں پیش کیا گیا۔ پراسیکیوشن کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ دونوں ملزمان سے مزید تفتیش درکار ہے اور کیس کے کئی اہم پہلوؤں پر تحقیقات جاری ہیں۔

تاہم عدالتی کارروائی کے دوران سامنے آنے والی معلومات نے مقدمے کی پیش رفت کو مزید توجہ کا مرکز بنا دیا۔

مرکزی ملزمہ کا نام ہی مقدمے میں شامل نہیں کیا گیا

سماعت کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ مقدمے کی دستاویزات اور تفتیشی ریکارڈ میں مرکزی ملزمہ انمول عرف پنکی کی باقاعدہ گرفتاری اور نام کے اندراج کی کارروائی مکمل نہیں کی گئی۔

اس صورتحال پر جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم اختر نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک ماہ سے جیل میں قید خاتون کی گرفتاری تک ریکارڈ میں شامل نہیں کی جا سکی، جو تفتیشی نظام کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ جو تفتیشی افسر ایک گرفتار ملزمہ کی قانونی گرفتاری درج نہیں کر سکتا، وہ مقدمے کی مؤثر تفتیش کیسے کرے گا۔

جج کے سخت ریمارکس

جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم اختر نے دورانِ سماعت تفتیشی افسر سے استفسار کرتے ہوئے کہا:

“آپ کو اتنی توفیق نہیں ہو رہی کہ ایک ماہ پہلے گرفتار ملزمہ کی گرفتاری ڈال سکیں، جو آئی او جیل میں قید ملزمہ کی گرفتاری نہیں ڈال سکتا وہ تفتیش کیا کرے گا۔”

عدالت کے ان سخت ریمارکس سے واضح ہوا کہ کیس کی تفتیش میں تاخیر اور انتظامی کوتاہیوں پر عدلیہ مطمئن نہیں ہے۔

سرکاری وکیل کی یقین دہانی

عدالت کی برہمی کے بعد سرکاری وکیل نے یقین دہانی کرائی کہ تفتیشی افسر اسی روز ہر صورت ملزمہ انمول عرف پنکی کی باقاعدہ گرفتاری کا اندراج مکمل کر دے گا۔

پراسیکیوشن نے عدالت کو یقین دلایا کہ مقدمے کی قانونی کارروائی کو جلد مکمل کیا جائے گا اور تمام ضروری تقاضے پورے کیے جائیں گے تاکہ کیس کی تفتیش متاثر نہ ہو۔

موبائل فون کی برآمدگی اور مزید گرفتاریاں باقی

تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم عاقب کی نشاندہی پر واردات میں استعمال ہونے والا موبائل فون برآمد کرنا باقی ہے، جو کیس کے لیے ایک اہم ثبوت ثابت ہو سکتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ منشیات فروشی کے اس مبینہ نیٹ ورک کے دیگر مفرور ساتھیوں کی گرفتاری بھی ابھی باقی ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کی تلاش میں مصروف ہیں۔

حکام کے مطابق مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں تاکہ نیٹ ورک کے مکمل ڈھانچے اور سرگرمیوں کا پتہ لگایا جا سکے۔

جسمانی ریمانڈ میں توسیع

عدالت نے تفتیشی افسر کی استدعا منظور کرتے ہوئے ملزمان عاقب اور غلام عباس کے جسمانی ریمانڈ میں مزید دو روز کی توسیع کر دی۔

عدالت کا کہنا تھا کہ تفتیشی عمل کو مکمل کرنے اور مزید شواہد اکٹھے کرنے کے لیے اضافی وقت دیا جا رہا ہے، تاہم آئندہ سماعت پر تفتیشی پیش رفت سے متعلق تفصیلی رپورٹ بھی پیش کی جائے۔

منشیات فروشی کے سنگین مقدمات

واضح رہے کہ ملزمان کے خلاف کراچی کے تھانہ گارڈن اور تھانہ بوٹ بیسن میں منشیات فروشی کے سنگین مقدمات درج ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق ملزمان پر منشیات کی خرید و فروخت، سپلائی اور نیٹ ورک چلانے کے الزامات ہیں۔

تحقیقات کا مقصد نیٹ ورک کے دیگر ارکان، سپلائرز اور سہولت کاروں تک پہنچنا بھی ہے تاکہ منشیات کے کاروبار میں ملوث پورے گروہ کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

منشیات کے خلاف کارروائیوں میں تیزی

حالیہ مہینوں کے دوران کراچی میں منشیات فروشوں کے خلاف کارروائیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے شہر میں منشیات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مختلف آپریشنز کر رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ منشیات فروشی نہ صرف نوجوان نسل کے لیے خطرہ ہے بلکہ اس سے جرائم کی دیگر اقسام میں بھی اضافہ ہوتا ہے، اس لیے ایسے نیٹ ورکس کے خلاف مؤثر کارروائی انتہائی ضروری ہے۔

نتیجہ

کوکین ڈیلر انمول عرف پنکی کیس کی سماعت کے دوران سامنے آنے والے انکشافات نے تفتیشی عمل پر کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ عدالت نے مرکزی ملزمہ کا نام مقدمے میں شامل نہ کیے جانے پر سخت برہمی کا اظہار کیا جبکہ تفتیشی افسر کو فوری قانونی کارروائی مکمل کرنے کی ہدایت بھی دی۔ دوسری جانب ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کر دی گئی ہے اور کیس کی مزید تحقیقات جاری ہیں، جن سے مزید اہم حقائق سامنے آنے کی توقع ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں