32

بانی پی ٹی آئی سے بھی آخرکار ڈیل ہوگی، اعجاز الحق کا بڑا دعویٰ

تعارفیہ

اسلام آباد: حکومتی اتحادی اور مسلم لیگ (ضیاء) کے سربراہ اعجاز الحق نے موجودہ سیاسی صورتحال پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بڑے رہنماؤں کے معاملات مذاکرات اور مفاہمت کے ذریعے حل ہوتے رہے ہیں، اسی طرح بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے معاملے میں بھی بالآخر کوئی نہ کوئی سیاسی حل یا مفاہمت سامنے آئے گی۔ انہوں نے حکومت کی کارکردگی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مختلف شعبوں میں عوام کی توقعات پوری نہیں ہو سکیں۔


اعجاز الحق کا اہم دعویٰ

اے آر وائی نیوز کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں اعجاز الحق نے کہا کہ ماضی میں بھی ملک کے بڑے سیاسی رہنماؤں کے معاملات مذاکرات کے ذریعے حل کیے گئے تھے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ نواز شریف، بینظیر بھٹو اور دیگر سیاسی شخصیات کے معاملات بھی مختلف اوقات میں مفاہمت کے ذریعے طے ہوئے، اسی لیے ان کے خیال میں بانی پی ٹی آئی کے معاملے میں بھی بالآخر کوئی سیاسی حل سامنے آئے گا۔


بانی پی ٹی آئی سے رابطوں کا دعویٰ

اعجاز الحق نے دعویٰ کیا کہ بانی پی ٹی آئی سے اب بھی مختلف سطحوں پر رابطے موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی معاملات کو حل کرنے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں اور مستقبل میں بھی کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات یا کسی درمیانی راستے کا امکان موجود ہے۔


“درمیانی راستہ نکالنا پڑے گا”

مسلم لیگ (ضیاء) کے سربراہ کا کہنا تھا کہ موجودہ سیاسی بحران کا حل تصادم نہیں بلکہ مذاکرات اور درمیانی راستہ نکالنے میں ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ 26 نومبر کے لانگ مارچ سے قبل بھی ایسے معاملات پر پیش رفت ہوئی تھی اور آئندہ بھی کسی نہ کسی سطح پر مفاہمت کی کوششیں جاری رہ سکتی ہیں۔


حکومت کی کارکردگی پر تنقید

اعجاز الحق نے موجودہ حکومت کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ حکومت کی بنیادی ذمہ داری عوام کو بہتر سہولیات اور مؤثر حکمرانی فراہم کرنا ہے۔

ان کے مطابق مختلف شعبوں میں حکومت عوام کی توقعات کے مطابق نتائج دینے میں کامیاب نہیں ہو سکی، جس کے باعث عوامی سطح پر بھی مختلف سوالات جنم لے رہے ہیں۔


سیاسی مفاہمت کی ضرورت

انہوں نے کہا کہ پاکستان جیسے ملک میں سیاسی استحکام کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مذاکرات اور مفاہمت انتہائی ضروری ہے۔

ان کے مطابق مسلسل سیاسی کشیدگی معیشت، سرمایہ کاری اور قومی ترقی پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے، اس لیے تمام سیاسی قوتوں کو ملکی مفاد میں مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔


موجودہ سیاسی صورتحال

ملک میں اس وقت مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات برقرار ہیں جبکہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بھی کئی معاملات پر سخت مؤقف دیکھنے میں آ رہا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق آئندہ چند ماہ ملکی سیاست کے لیے اہم ثابت ہو سکتے ہیں، کیونکہ مختلف جماعتیں اپنی حکمت عملی ترتیب دے رہی ہیں۔


اعجاز الحق کے بیان پر ممکنہ ردِعمل

اعجاز الحق کے اس بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔

کچھ مبصرین کے مطابق یہ بیان مستقبل میں مذاکرات کے امکان کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے، جبکہ دیگر کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات کو سیاسی رائے کے تناظر میں دیکھنا چاہیے اور کسی بھی ممکنہ پیش رفت کے لیے متعلقہ فریقین کے باضابطہ مؤقف کا انتظار ضروری ہوگا۔


اختتامیہ

مسلم لیگ (ضیاء) کے سربراہ اعجاز الحق نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کی سیاست میں مفاہمت اور مذاکرات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے معاملے کا حل بھی بالآخر مذاکرات یا کسی سیاسی سمجھوتے کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ تاہم اس حوالے سے فی الحال کوئی باضابطہ حکومتی یا متعلقہ فریق کا مؤقف سامنے نہیں آیا، جس کے باعث سیاسی حلقوں میں اس بیان پر بحث جاری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں