31

آزاد کشمیر میں ن لیگ کو بڑا سیاسی دھچکا، سابق ایم ایل اے راجا عبدالقیوم خان کا آئی پی پی میں شمولیت کا فیصلہ

پارٹی ٹکٹ نہ ملنے پر ناراض رہنما آج ساتھیوں سمیت استحکام پاکستان پارٹی میں باقاعدہ شمولیت کا اعلان کریں گے

مظفرآباد (2 جولائی 2026): آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما، سابق ممبر قانون ساز اسمبلی راجا عبدالقیوم خان نے استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پارٹی قیادت کی جانب سے آئندہ انتخابات کے لیے ٹکٹ نہ ملنے پر انہوں نے ن لیگ چھوڑنے اور نئی سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کرنے کا حتمی فیصلہ کیا ہے، جسے آزاد کشمیر کی سیاست میں ایک اہم تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔

ن لیگ کو اہم سیاسی دھچکا

سیاسی ذرائع کے مطابق راجا عبدالقیوم خان کا ن لیگ چھوڑنے کا فیصلہ آزاد کشمیر میں پارٹی کے لیے بڑا سیاسی نقصان ثابت ہو سکتا ہے۔ وہ گزشتہ کئی برسوں سے مسلم لیگ (ن) کی سیاست کا اہم حصہ رہے ہیں اور اپنے حلقے میں مضبوط عوامی حمایت رکھتے ہیں۔ ان کی پارٹی سے علیحدگی کو آئندہ انتخابات سے قبل ن لیگ کے لیے ایک بڑا چیلنج سمجھا جا رہا ہے۔

آج آئی پی پی میں باقاعدہ شمولیت متوقع

ذرائع کا کہنا ہے کہ راجا عبدالقیوم خان آج اپنے قریبی ساتھیوں، کارکنوں اور سیاسی حامیوں کے ہمراہ استحکام پاکستان پارٹی میں باقاعدہ شمولیت اختیار کریں گے۔ اس موقع پر پارٹی قیادت کی موجودگی میں شمولیتی تقریب منعقد کیے جانے کا امکان ہے، جہاں وہ اپنی آئندہ سیاسی حکمت عملی کا بھی اعلان کریں گے۔

حلقہ کھاوڑہ سے آئی پی پی کے امیدوار ہوں گے

ذرائع کے مطابق راجا عبدالقیوم خان آئندہ عام انتخابات میں حلقہ کھاوڑہ سے استحکام پاکستان پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑیں گے۔ ان کی شمولیت سے آئی پی پی کو نہ صرف حلقہ کھاوڑہ بلکہ آزاد کشمیر کے دیگر علاقوں میں بھی سیاسی فائدہ پہنچنے کی توقع کی جا رہی ہے۔

2021 کے انتخابات میں ن لیگ کے ٹکٹ پر کامیابی

واضح رہے کہ راجا عبدالقیوم خان نے سال 2021 کے آزاد کشمیر انتخابات میں حلقہ کھاوڑہ سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کے طور پر کامیابی حاصل کی تھی۔ وہ اس حلقے میں پارٹی کے مضبوط امیدوار سمجھے جاتے تھے اور عوامی سطح پر بھی خاصی مقبولیت رکھتے ہیں۔

ٹکٹ نہ ملنے پر اختلافات شدت اختیار کر گئے

ذرائع کے مطابق آئندہ انتخابات کے لیے راجا عبدالقیوم خان نے ایک بار پھر مسلم لیگ (ن) سے پارٹی ٹکٹ کی درخواست دی تھی، تاہم پارٹی قیادت نے انہیں امیدوار نامزد کرنے کے بجائے ثاقب مجید راجا کو ٹکٹ جاری کر دیا۔ اس فیصلے کے بعد راجا عبدالقیوم خان نے پارٹی قیادت سے شدید تحفظات کا اظہار کیا اور متعدد مواقع پر اپنی ناراضگی بھی ظاہر کی۔

نظراندازی کے بعد ن لیگ چھوڑنے کا فیصلہ

سیاسی مبصرین کے مطابق پارٹی کی جانب سے مسلسل نظرانداز کیے جانے کے باعث راجا عبدالقیوم خان نے بالآخر مسلم لیگ (ن) سے راہیں جدا کرنے کا فیصلہ کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران مختلف سیاسی جماعتوں سے ان کے رابطے جاری تھے، تاہم انہوں نے آخرکار استحکام پاکستان پارٹی میں شامل ہونے کو ترجیح دی۔

آزاد کشمیر کی سیاست پر ممکنہ اثرات

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ راجا عبدالقیوم خان کی آئی پی پی میں شمولیت آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال پر نمایاں اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ ان کے ساتھ اگر مقامی رہنماؤں اور کارکنوں کی بڑی تعداد بھی نئی جماعت میں شامل ہوتی ہے تو حلقہ کھاوڑہ سمیت دیگر علاقوں میں سیاسی مقابلہ مزید دلچسپ ہو سکتا ہے۔

استحکام پاکستان پارٹی کے لیے اہم کامیابی

سیاسی حلقوں کے مطابق استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر میں اپنی سیاسی بنیاد مضبوط بنانے کی کوشش کر رہی ہے، اور راجا عبدالقیوم خان جیسے تجربہ کار رہنما کی شمولیت پارٹی کے لیے ایک بڑی کامیابی تصور کی جا رہی ہے۔ اس پیش رفت سے آئی پی پی کو تنظیمی اور انتخابی سطح پر فائدہ پہنچنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

آئندہ انتخابات میں سخت مقابلے کا امکان

آزاد کشمیر میں عام انتخابات قریب آنے کے ساتھ مختلف سیاسی جماعتوں میں جوڑ توڑ، اتحاد اور نئی شمولیتوں کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔ راجا عبدالقیوم خان کی ن لیگ سے علیحدگی اور آئی پی پی میں شمولیت کو بھی اسی سیاسی سرگرمی کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق آئندہ انتخابات میں مختلف جماعتوں کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے، جبکہ ووٹرز کی توجہ بھی اہم سیاسی شخصیات کے فیصلوں پر مرکوز رہے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں