38

آئی ایم ایف سے آئندہ قسط کیلئے مذاکرات اگلے ماہ، گردشی قرضہ حکومت کیلئے بڑا چیلنج بن گیا

اسلام آباد (11 اگست 2026): پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان آئندہ ماہ اسلام آباد میں جائزہ مذاکرات متوقع ہیں، تاہم بجلی کے شعبے میں گردشی قرضے میں نمایاں اضافہ حکومت کے لیے ایک اہم چیلنج بن گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بجلی کا گردشی قرضہ آئی ایم ایف کی مقررہ حد سے تقریباً 130 ارب روپے زیادہ ہو چکا ہے، جس کے باعث آئندہ جائزہ مذاکرات میں توانائی کے شعبے کی صورتحال خصوصی توجہ کا مرکز بن سکتی ہے۔

آئی ایم ایف جائزہ مذاکرات اگلے ماہ ہوں گے

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان موجودہ قرض پروگرام کے تحت آئندہ جائزہ مذاکرات اگلے ماہ اسلام آباد میں ہونے کا امکان ہے۔ ان مذاکرات میں پاکستان کی جانب سے معاشی اصلاحات، توانائی کے شعبے میں پیش رفت اور پروگرام کے تحت مقررہ اہداف پر عملدرآمد کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی جائے گی۔

حکومت کی کوشش ہوگی کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کامیابی سے مکمل کیے جائیں تاکہ موجودہ قرض پروگرام کے تحت پاکستان کے لیے آئندہ قسط کے حصول کی راہ ہموار ہو سکے۔

بجلی کا گردشی قرضہ 130 ارب روپے زیادہ

ذرائع کے مطابق بجلی کے شعبے کا گردشی قرضہ آئی ایم ایف کی جانب سے مقررہ حد سے تقریباً 130 ارب روپے زیادہ ہو گیا ہے۔ آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے بجلی کے شعبے کا گردشی قرضہ 1600 ارب روپے تک محدود رکھنے کا ہدف مقرر کر رکھا تھا۔

گردشی قرضے میں اضافے کو حکومت کے لیے ایک اہم چیلنج قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ توانائی کے شعبے میں مالیاتی بے ضابطگیاں اور واجبات کا بڑھنا پاکستان کے معاشی استحکام پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔

توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا اثر

ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا ایران جنگ کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے بھی پاکستان کے بجلی کے شعبے کے گردشی قرضے پر اثر ڈالا ہے۔

توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے بجلی پیدا کرنے اور دیگر متعلقہ اخراجات میں اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں شعبے کے مالی دباؤ میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔ حکومت کے لیے اب یہ ضروری ہوگا کہ وہ گردشی قرضے کو قابو میں رکھنے کے لیے ایسے اقدامات کرے جو عوام اور معیشت پر اضافی بوجھ نہ ڈالیں۔

بجلی اور گیس کے شعبوں پر مذاکرات میں بات ہوگی

آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں بجلی اور گیس کے شعبوں کے گردشی قرضے سمیت توانائی کے شعبے میں جاری اصلاحات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

پاکستانی حکام آئی ایم ایف کو توانائی اصلاحات، مالیاتی نظم و ضبط اور دیگر مقررہ اہداف پر ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کریں گے۔ حکومت کی جانب سے یہ بھی بتایا جائے گا کہ گردشی قرضے میں اضافے کو روکنے اور توانائی کے شعبے کو زیادہ مؤثر بنانے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

بجلی کی قیمتیں بڑھانے کے بجائے متبادل پلان

ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافے کے بجائے معاشی ٹیم کو متبادل پلان تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اس ہدایت کے بعد حکومت کے سامنے ایک اہم چیلنج یہ ہے کہ گردشی قرضے کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ عوام پر مزید مالی بوجھ بھی نہ ڈالا جائے۔

بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث پہلے ہی صارفین پر مالی دباؤ موجود ہے، اس لیے حکومت اب ایسے متبادل اقدامات تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جن سے بجلی کے شعبے کے مالی مسائل کو کم کیا جا سکے۔

پاکستان آئی ایم ایف کو معاشی اصلاحات پر بریفنگ دے گا

آئندہ جائزہ مذاکرات کے دوران پاکستان آئی ایم ایف کو معاشی اصلاحات کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت سے بھی آگاہ کرے گا۔ ذرائع کے مطابق اسٹرکچرل بینچ مارک کے تحت مقررہ اہداف پر بھی تفصیلی بریفنگ دی جائے گی۔

حکومت کی جانب سے کوشش کی جائے گی کہ پروگرام کے تحت کیے گئے اقدامات اور مستقبل کے منصوبوں کو آئی ایم ایف کے سامنے مؤثر انداز میں پیش کیا جائے تاکہ جائزہ کامیابی سے مکمل ہو سکے۔

کامیاب مذاکرات سے پانچویں قسط کی راہ ہموار

ذرائع کے مطابق اگر پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ جائزہ مذاکرات کامیابی سے مکمل ہوجاتے ہیں تو موجودہ قرض پروگرام کے تحت پاکستان کے لیے پانچویں قسط کے حصول کی راہ ہموار ہو جائے گی۔

پاکستان کو پانچویں قسط کی مد میں تقریباً ایک ارب ڈالر ملنے کا امکان ہے۔ یہ رقم پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنے اور بیرونی مالی ضروریات پوری کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

موسمیاتی تبدیلی کیلئے اضافی رقم کا امکان

ذرائع کے مطابق پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں کے نقصانات سے نمٹنے کے لیے تقریباً 20 کروڑ ڈالر کی اضافی رقم ملنے کا بھی امکان ہے۔

موسمیاتی تبدیلی پاکستان کے لیے ایک اہم معاشی چیلنج بن چکی ہے۔ سیلاب، شدید بارشوں اور دیگر قدرتی آفات کے باعث ملکی معیشت کو وقتاً فوقتاً بڑے نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے میں موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اضافی مالی معاونت پاکستان کے لیے اہم ثابت ہوسکتی ہے۔

حکومت کیلئے توانائی اصلاحات اہم امتحان

آئی ایم ایف کے ساتھ آئندہ مذاکرات میں توانائی کے شعبے کی کارکردگی حکومت کے لیے اہم امتحان ہوگی۔ بجلی کے گردشی قرضے کا مقررہ ہدف سے تجاوز کرنا آئی ایم ایف کے سامنے ایک اہم معاملہ بن سکتا ہے۔

حکومت کو ایک جانب آئی ایم ایف کے مقررہ اہداف پر عملدرآمد یقینی بنانا ہوگا جبکہ دوسری جانب بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافے سے عوام کو ممکنہ اضافی مالی بوجھ سے بچانے کے لیے متبادل اقدامات بھی کرنا ہوں گے۔

اگر پاکستان مذاکرات میں توانائی اصلاحات اور دیگر معاشی اہداف پر مؤثر پیش رفت دکھانے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو نہ صرف پانچویں قسط کے حصول کی راہ ہموار ہوگی بلکہ عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ پاکستان کے معاشی پروگرام میں بھی اعتماد مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں