میر حسین علی کا بیٹے پر تشدد کا الزام
کراچی: قتل ہونے والے نوجوان میر رضا علی کے والد میر حسین علی نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے بیٹے کو منصوبہ بندی کے تحت بلایا گیا اور پھر اس پر شدید تشدد کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ میر رضا کو معلوم تھا کہ وہ جن لوگوں سے ملنے جا رہا ہے، وہ تھانے سے بھی اوپر ہیں۔
اے آر وائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے میر حسین علی نے کہا کہ ان کے بیٹے پر انتہائی شدید تشدد کیا گیا۔ ان کے بقول یہ عام نوعیت کا واقعہ نہیں بلکہ پروفیشنل لوگوں کی جانب سے کیا گیا اقدام محسوس ہوتا ہے۔
میر رضا کو منصوبہ بندی کرکے بلایا گیا
میر حسین علی نے دعویٰ کیا کہ میر رضا علی کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت بلایا گیا تھا۔ ان کے مطابق ان کے بیٹے کو اس ملاقات کے حوالے سے کچھ علم تھا، تاہم اسے اندازہ تھا کہ جن افراد سے وہ ملنے جا رہا ہے، ان کا اثر و رسوخ عام لوگوں سے کہیں زیادہ ہے۔
والد کے مطابق میر رضا نے جانا تھا کہ وہ ایسے لوگوں سے ملاقات کرنے جا رہا ہے جو پولیس تھانے کی سطح سے بھی اوپر اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ ان کے اس بیان نے کیس کے مختلف پہلوؤں پر مزید سوالات اٹھا دیے ہیں۔
میڈیکل رپورٹ میں تشدد کا ذکر، والد
میر حسین علی نے گفتگو کے دوران میڈیکل رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رپورٹ میں میر رضا کو بے ہوش کرکے تشدد کیے جانے کا ذکر موجود ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کے بیٹے کے ساتھ جو کچھ ہوا، اس کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ واقعے کے اصل حقائق سامنے آ سکیں۔ والد نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے بیٹے کی موت کے حوالے سے اٹھنے والے تمام سوالات کے واضح جوابات چاہتے ہیں۔
’یہ پروفیشنل لوگ ہیں‘
میر حسین علی نے الزام عائد کیا کہ میر رضا پر تشدد کرنے والے افراد عام لوگ نہیں بلکہ پروفیشنل نوعیت کے لوگ تھے۔ ان کے مطابق واقعے کے حالات اور ان کے بیٹے کے جسم پر تشدد کے مبینہ نشانات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ معاملہ انتہائی سنجیدہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کے بیٹے کو کس مقصد کے تحت بلایا گیا، وہاں کیا ہوا اور اس کے بعد اسے کس طرح تشدد کا نشانہ بنایا گیا، ان تمام سوالات کا جواب تفتیش کے ذریعے سامنے آنا چاہیے۔
آئی جی سندھ کے بیان پر والد کا ردعمل
میر حسین علی نے آئی جی سندھ کے بیان کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ آئی جی سندھ کی جانب سے میڈیکل رپورٹ میں کچھ غلطی ہونے کی بات کی گئی ہے۔
والد کا کہنا تھا کہ اگر رپورٹ میں غلطی ہے تو اس کی وضاحت سامنے آنی چاہیے اور حقائق عوام کے سامنے رکھے جانے چاہئیں۔ انہوں نے اس معاملے میں شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے تعین کا مطالبہ کیا۔
’ہماری بھی قبریں بنادیں‘
میر حسین علی نے گفتگو کے دوران شدید جذباتی انداز میں کہا کہ انہوں نے وزیر داخلہ سے بھی بات کی اور کہا کہ اگر ان کے بیٹے کی موت کو خودکشی قرار دینا ہے تو پھر ان کی بھی قبریں بنادیں اور انہیں بھی خودکشی ڈکلیئر کرادیں۔
ان کا یہ بیان اس غم، غصے اور بے بسی کی عکاسی کرتا ہے جس کا وہ اپنے بیٹے کی موت کے بعد سامنا کر رہے ہیں۔ میر حسین علی مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ میر رضا کی موت کے اصل حقائق سامنے لائے جائیں اور کسی بھی پہلو کو نظر انداز نہ کیا جائے۔
تحقیقات پر کئی سوالات برقرار
میر رضا علی کی موت کا معاملہ تاحال مختلف سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ والد کی جانب سے تشدد کے الزامات، میڈیکل رپورٹ سے متعلق دعوے اور پولیس حکام کے بیانات کے باعث کیس کی تحقیقات اہم مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں۔
متاثرہ خاندان کا مطالبہ ہے کہ تحقیقات کسی دباؤ کے بغیر کی جائیں اور اگر میر رضا کو قتل کیا گیا ہے تو اس میں ملوث تمام افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
اصل حقیقت تحقیقات سے سامنے آئے گی
میر رضا علی کے والد کے الزامات انتہائی سنگین نوعیت کے ہیں، تاہم ان دعوؤں کی حتمی تصدیق تفتیش اور قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی ممکن ہوگی۔ واقعے کی اصل حقیقت جاننے کے لیے میڈیکل شواہد، فرانزک رپورٹس، گواہوں کے بیانات اور دیگر شواہد کا جائزہ انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
کیس میں مزید پیش رفت کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ میر رضا علی کی موت کے اصل حالات کیا تھے اور اس کے ذمہ دار کون ہیں۔