32

راولپنڈی اسلام آباد میں موسلادھار بارش، نالہ لئی میں پانی 22 فٹ سے تجاوز کر گیا

جڑواں شہروں میں شدید بارش کے بعد صورتحال تشویشناک

راولپنڈی، اسلام آباد اور گردونواح میں موسلادھار بارش کے بعد صورتحال تشویشناک ہو گئی ہے، جس کے باعث جڑواں شہروں میں الرٹ وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔ مسلسل ہونے والی شدید بارش کے باعث نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے کے ساتھ ساتھ نالوں میں طغیانی کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔

انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کی جانب سے شہریوں کو محتاط رہنے اور غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلنے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ خطرناک صورتحال کے پیش نظر مختلف نشیبی علاقوں میں انخلا کے لیے بھی اعلانات کیے جا رہے ہیں۔

نالہ لئی میں پانی کی سطح 22 فٹ سے تجاوز کر گئی

شدید بارش کے باعث نالہ لئی میں پانی کی سطح میں مسلسل اور تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق نالہ لئی میں پانی کی سطح 22 فٹ سے تجاوز کر گئی ہے، جس کے بعد صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔

پانی کی سطح میں مسلسل اضافے کے باعث نالہ لئی کے اطراف میں رہائش پذیر شہریوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور پانی کی سطح میں اضافے کے ساتھ ہی ہنگامی اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔

نشیبی علاقوں میں خطرے کے سائرن بجا دیے گئے

نالہ لئی میں طغیانی کے بعد راولپنڈی کے مختلف نشیبی علاقوں میں خطرے کے سائرن بجا دیے گئے ہیں۔ شہریوں کو خبردار کیا جا رہا ہے کہ وہ فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں اور نالوں، دریاؤں یا پانی کے تیز بہاؤ والے علاقوں کے قریب جانے سے گریز کریں۔

انتظامیہ کی جانب سے شہریوں کو بارش کے دوران غیر ضروری سفر سے بھی گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ حادثے سے بچا جا سکے۔

جاوید کالونی اور ندیم کالونی میں پانی داخل

شدید بارش اور نالہ لئی میں طغیانی کے باعث جاوید کالونی اور ندیم کالونی سمیت متعدد نشیبی علاقوں کی سڑکوں اور گھروں میں پانی داخل ہو گیا ہے۔

متاثرہ علاقوں میں شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے جبکہ متعدد مقامات پر آمدورفت بھی متاثر ہوئی ہے۔ پانی کی سطح بلند ہونے کے باعث شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔

مختلف علاقوں کے نالوں میں بھی طغیانی

راولپنڈی کے دیگر علاقوں میں بھی بارش کے پانی نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ جامعہ مسجد روڈ، ڈھوک کھبہ اور صادق آباد کے نالوں میں بھی طغیانی ریکارڈ کی گئی ہے۔

ان علاقوں میں پانی کے تیز بہاؤ کے باعث شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ انتظامیہ کی جانب سے پانی کی نکاسی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

شہریوں کو فوری محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت

انتظامیہ نے کٹاریاں، گوالمنڈی، جاوید کالونی اور ندیم کالونی کے مکینوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

حکام کی جانب سے شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کی ہدایات پر عمل کریں اور اپنی جان و مال کے تحفظ کے لیے خطرناک علاقوں کو فوری طور پر خالی کر دیں۔

نشیبی علاقوں میں ایمرجنسی نافذ

صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر نشیبی علاقوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کو ہنگامی بنیادوں پر امدادی کارروائیاں جاری رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ڈپٹی کمشنر راولپنڈی، واسا (WASA) اور ریسکیو 1122 کی ٹیمیں امدادی سامان اور ضروری مشینری کے ساتھ متاثرہ علاقوں میں پہنچ چکی ہیں۔

ریسکیو ٹیمیں امدادی کارروائیوں میں مصروف

ریسکیو 1122 اور دیگر متعلقہ اداروں کی ٹیمیں نشیبی علاقوں میں شہریوں کی بروقت منتقلی اور پانی کی نکاسی کے لیے کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

امدادی ٹیموں کی جانب سے متاثرہ علاقوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ ضرورت مند شہریوں کو محفوظ مقامات تک منتقل کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ پانی کی نکاسی کے لیے مشینری بھی مختلف مقامات پر استعمال کی جا رہی ہے۔

شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت

انتظامیہ کی جانب سے مسلسل خطرے کے سائرن بجا کر شہریوں کو صورتحال سے باخبر کیا جا رہا ہے۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بارش کے دوران بجلی کے کھمبوں، نالوں اور پانی سے بھرے راستوں سے دور رہیں۔

حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ریسکیو اداروں سے تعاون کریں اور متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں کے دوران غیر ضروری ہجوم سے گریز کریں۔

صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے

راولپنڈی اور اسلام آباد میں بارش کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال پر ضلعی انتظامیہ، واسا اور ریسکیو ادارے مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ نالہ لئی میں پانی کی سطح میں مزید اضافے کے امکان کے پیش نظر متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رکھا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں