اسلام آباد (06 جون 2026): آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے مٹی کے تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ کرتے ہوئے نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے بعد صارفین کو مٹی کا تیل پہلے کے مقابلے میں زیادہ قیمت پر خریدنا ہوگا۔
مٹی کے تیل کی قیمت میں کتنا اضافہ ہوا؟
اوگرا کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت میں 8 روپے 70 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔
قیمتوں میں اضافے کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت 280 روپے 70 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ اس سے قبل یہ 272 روپے فی لیٹر فروخت ہو رہا تھا۔
نئی قیمتوں کا اطلاق
نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا فوری اطلاق کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ملک بھر میں صارفین کو مٹی کا تیل 280 روپے 70 پیسے فی لیٹر کے حساب سے دستیاب ہوگا۔
مٹی کا تیل خاص طور پر سرد اور دور دراز علاقوں میں گھریلو استعمال، ہیٹنگ اور بعض تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جس کی قیمت میں اضافے سے متعدد صارفین متاثر ہو سکتے ہیں۔
پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان
واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے گزشتہ شب آئندہ پندرہ روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل کا اعلان کیا تھا۔
سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے فی لیٹر کمی کی گئی ہے، جس کے بعد نئی قیمت 377 روپے 78 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔
حکومت کے اس فیصلے سے نجی گاڑیوں، موٹر سائیکل استعمال کرنے والوں اور عام شہریوں کو جزوی ریلیف ملے گا۔
ڈیزل کی قیمت برقرار
حکومتی نوٹیفکیشن کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی گئی۔
ڈیزل کی قیمت 380 روپے 78 پیسے فی لیٹر پر برقرار رکھی گئی ہے، جس سے ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کو فوری طور پر کسی اضافی مالی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
گزشتہ کمی کا پس منظر
یاد رہے کہ 29 مئی 2026 کو وزیراعظم شہباز شریف نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 22 روپے فی لیٹر نمایاں کمی کا اعلان کیا تھا۔
اس فیصلے کا مقصد عوام کو بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ایندھن کی بلند قیمتوں کے اثرات سے ریلیف فراہم کرنا تھا۔
پیٹرولیم قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی وجوہات
حالیہ مہینوں میں خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا۔
عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کے اثرات براہ راست مقامی مارکیٹ پر مرتب ہوتے ہیں، جس کے باعث حکومت کو وقتاً فوقتاً قیمتوں میں رد و بدل کرنا پڑتا ہے۔
حکومت کی سبسڈی پالیسی
پیٹرولیم مصنوعات کی بلند قیمتوں کے باعث حکومت نے عوامی ریلیف کے لیے مختلف اقدامات بھی کیے ہیں۔
حکومت کی جانب سے:
پبلک ٹرانسپورٹ سیکٹر
گڈز ٹرانسپورٹ
موٹر سائیکل سواروں
رکشہ ڈرائیورز
کے لیے فیول سبسڈی پروگرام متعارف کرایا گیا تاکہ عام شہریوں پر مہنگائی کے بوجھ کو کم کیا جا سکے۔
مٹی کے تیل کی قیمت میں اضافے کے ممکنہ اثرات
ماہرین کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت میں اضافے سے خاص طور پر وہ خاندان متاثر ہوں گے جو دیہی اور پہاڑی علاقوں میں اسے روزمرہ ضروریات کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
اس کے علاوہ بعض چھوٹے کاروبار اور تجارتی سرگرمیوں پر بھی اس اضافے کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جبکہ توانائی کے متبادل ذرائع استعمال کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔
نتیجہ
اوگرا کی جانب سے مٹی کے تیل کی قیمت میں 8 روپے 70 پیسے فی لیٹر اضافے کے بعد نئی قیمت 280 روپے 70 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ دوسری جانب پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے کمی اور ڈیزل کی قیمت برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
عالمی تیل کی قیمتوں اور خطے کی صورتحال کے تناظر میں پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں آئندہ بھی رد و بدل کا امکان موجود ہے، جبکہ حکومت عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے مختلف اقدامات جاری رکھنے کا عندیہ دے رہی ہے۔